ذیابیطس میں پاؤں کی حفاظت: روزانہ کی عادتیں جو پاؤں بچاتی ہیں
پاؤں کے مسائل ذیابیطس کی سب سے قابلِ بچاؤ پیچیدگیوں میں سے ہیں، مگر انہی سے سب سے زیادہ غفلت دیکھی جاتی ہے۔ گھر پر بغیر کسی آلے کے کیا جانے والا مختصر روزانہ معمول زیادہ تر مسائل کو ابتدا ہی میں پکڑ لیتا ہے، جب علاج آسان ہوتا ہے۔
اہم نکات
- برسوں کی بلند شوگر پاؤں کی حس کم کر سکتی ہے، اس لیے چوٹ محسوس نہیں ہوتی۔
- روزانہ دو منٹ دونوں پاؤں دیکھیں، انگلیوں کے درمیان بھی۔
- گٹے یا سخت جلد کبھی بلیڈ سے نہ کاٹیں، نہ تیزابی کارن کیپ لگائیں۔
- جو زخم چند دنوں میں بھرنا شروع نہ ہو اسے ٹوٹکوں کی نہیں، ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔
ذیابیطس میں پاؤں کو خاص خیال کیوں چاہیے
برسوں کی بڑھی ہوئی شوگر خاموشی سے دو کام کر سکتی ہے: پاؤں میں درد محسوس کرنے والے اعصاب کو کمزور کرنا، اور شفا پہنچانے والی باریک رگوں کو تنگ کرنا۔ نتیجہ یہ کہ معمولی چھالا یا کٹ محسوس نہیں ہوتا اور پھر دیر سے بھرتا ہے۔ ابتدا میں پکڑے جائیں تو یہ مسائل تقریباً ہمیشہ قابو میں آ جاتے ہیں۔ نظرانداز ہوں تو چھوٹا زخم سنگین ناسور بن سکتا ہے۔
دو منٹ کا روزانہ معائنہ
- اچھی روشنی میں دونوں پاؤں اوپر سے، تلوے اور انگلیوں کے درمیان دیکھیں۔ تلووں کے لیے آئینہ استعمال کریں یا گھر والوں سے مدد لیں۔
- کٹ، چھالے، دراڑیں، سرخی، سوجن یا رنگت کی تبدیلی تلاش کریں۔
- چھو کر موازنہ کریں: کیا کوئی حصہ باقی پاؤں سے زیادہ گرم ہے؟
- جوتا پہننے سے پہلے ہاتھ ڈال کر اندر دیکھیں (جو کنکر محسوس نہ ہو وہ زخم کر سکتا ہے)۔
- بہترین وقت: وضو کے بعد یا سونے سے پہلے، تاکہ مستقل عادت بن جائے۔
دھونا، خشک کرنا اور ایڑیوں کی دراڑیں
پاؤں روزانہ ہلکے صابن اور مناسب گرم (کبھی تیز گرم نہیں) پانی سے دھوئیں، اور اگر پاؤں سُن ہوں تو پہلے پانی کا درجہ حرارت ہاتھ یا کہنی سے جانچیں۔ نرمی سے مکمل خشک کریں، خاص طور پر انگلیوں کے درمیان، کیونکہ وہاں کی نمی پھپھوندی کو دعوت دیتی ہے۔ خشک ایڑیوں پر سادہ کریم لگائیں، مگر انگلیوں کے درمیان کریم نہ لگائیں۔
گٹے یا سخت جلد کبھی بلیڈ یا ریزر سے نہ کاٹیں، تیزابی کارن کیپ یا پلاسٹر استعمال نہ کریں، اور سڑک کنارے کسی "ماہر" سے پاؤں کا علاج نہ کروائیں۔ سُن پاؤں میں یہ گہرے زخم بناتے ہیں جو مشکل سے بھرتے ہیں۔ ناخن سیدھے کاٹیں، کونوں میں گہرائی تک نہیں۔
ہمارے موسم کے لیے جوتے اور جرابیں
بند اور فٹنگ والے جوتے چپل کی نسبت کہیں بہتر حفاظت کرتے ہیں، کیونکہ چپل پاؤں کو چوٹ کے لیے کھلا چھوڑتی ہے۔ اگر گرمیوں میں چپل ناگزیر ہو تو نرم پٹیوں والی چنیں اور پاؤں کا معائنہ زیادہ کریں۔ جوتے شام کو خریدیں جب پاؤں ہلکے سوجے ہوتے ہیں، نئے جوتے آہستہ آہستہ عادت میں لائیں، اور روزانہ بدلی جانے والی سوتی جرابیں ترجیح دیں۔ ننگے پاؤں کہیں نہ چلیں، گھر میں بھی نہیں۔
انتباہی نشانیاں: اسی ہفتے بمقابلہ آج ہی
- اسی ہفتے ڈاکٹر سے ملیں اگر: گٹا یا سخت جلد بڑھ رہی ہو، ایڑیوں کی دراڑوں میں میل بیٹھ رہی ہو، ہلکی سُن پن یا جھنجھناہٹ ہو، ناخن جلد میں دھنس رہا ہو، انگلیوں کے درمیان پھپھوندی ہو۔
- آج ہی ڈاکٹر سے ملیں اگر: کوئی زخم یا چھالا چند دنوں میں واضح طور پر بھرنا شروع نہ ہو، زخم سے سرخی یا گرمی پھیل رہی ہو، پیپ یا بدبو ہو، سیاہ یا نیلی رنگت آ جائے، پاؤں کے زخم کے ساتھ بخار ہو، یا اچانک شدید درد ہو۔
اہم نکات
- • روزانہ دیکھنا کسی بھی کریم یا آلے سے بہتر ہے۔
- • شوگر کا اچھا قابو بذاتِ خود پاؤں کی حفاظت ہے: یہ اعصاب اور رگوں کو بچاتا ہے۔
- • اپنے باقاعدہ ذیابیطس معائنے میں پاؤں کا باقاعدہ معائنہ بھی کروائیں۔
ڈاکٹر سے کب ملیں
- کوئی بھی زخم جو چند دنوں میں بھرنا شروع نہ ہو۔
- پھیلتی سرخی، گرمی، پیپ، بدبو، یا زخم کے ساتھ بخار۔
- پاؤں میں نئی سُن پن، جھنجھناہٹ یا جلن۔
- پاؤں کے کسی حصے کی سیاہ یا نیلی رنگت: فوری، اسی دن۔
متعلقہ مضامین
بلند شوگر کی عام علامات، اور کب اقدام کریں
روزمرہ کی علامات جو بتاتی ہیں کہ شوگر بلند ہو سکتی ہے، ان کی وجہ، اور وہ نشانیاں جن پر فوری طبی توجہ درکار ہے۔
روزمرہ حرکت: ذیابیطس کے ساتھ ورزش
فائدے کے لیے جِم کی ضرورت نہیں۔ سادہ، باقاعدہ حرکت شوگر، توانائی اور موڈ بہتر کر سکتی ہے، یہاں محفوظ آغاز کا طریقہ ہے۔
بلڈ شوگر چارٹ: ملی گرام فی ڈیسی لیٹر میں نارمل لیول کیا ہے؟
نہار منہ، بے وقت اور کھانے کے بعد شوگر کی حدیں ملی گرام فی ڈیسی لیٹر میں، ایک بلند ریڈنگ کا مطلب، اور کون سا نمبر آج ہی ڈاکٹر تک لے جانا چاہیے۔ پاکستانی مریضوں کے لیے۔